Breaking

Monday, 27 April 2020

روزے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ھیں


روزے سے جسم میں کیا تبدیلیاں آتی ھیں
بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
تمام دوستوں کو میری جانب سے ماہ رمضان مبارک ہو اللہ پاک ھم سب کو اس بابرکت مہینے میں زیادہ سے زیادہ عبادات کرنے اور اللہ رب العزت کی رحمتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین
اور اللہ کریم اس برکتوں والے مہینے کی برکت سے ھم سب کو کرونا وائرس سے محفوظ رکھے اور اس وباء کا خاتمہ فرمائے، آمین،
روزے کے روحانی پہلوؤں اور ثمرات سے تو کسی کو انکار نہیں ہے، مگر اس کے اثرات جسم پر بھی مرتب ہوتے ہیں جس کا اندازہ ایک روزے دار سے بہتر کسی کو نہیں ہوسکتا۔
روزہ نہ صرف انسان کو صبر و شکر کی جانب راغب کرکے اس کے انسانی زندگی پر بہترین اثرات مرتب کرتا ہے بلکہ وہ جسم میں قوت مدافعت بڑھاتا ہے، کئی قسم کی بیماریوں کو ختم کرنے میں معاون و مددگار ہوتا ہے اور اگر سحری اور افطاری میں اعتدال کا دامن نہ چھوڑا جائے تو یہ وزن کم کرنے ،دل اور دیگر اعضائے رئیسہ کو مختلف امراض سے بچانے میں معاون و مددگار بھی ہوتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق روزہ رکھنے سے انسانی جسم کے مردہ یا کینسر زدہ سیل ختم ہونے لگتے ہیں، روزے دار کا بدن ان خلیات کو کھانے لگتا ہے اور مریض شفا یاب ہوجاتا ہے۔
روزے کے دوران دن بہ دن ہمارے جسم پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ہمارا بدن جس ردعمل کا اظہار کرتا ہے اس کے متعلق کچھ دلچسپ معلومات حاضر خدمت ہیں۔
رمضان کے پہلے ہی دن بلڈ شوگر لیول گرتا ہے یعنی خون سے چینی کے مضر اثرات کم ہونا شروع ہوجاتے ہیںہے، جس کی وجہ سے دل کی دھڑکن سست ہو جاتی ہے اور خون کا دباؤ کم ہو جاتا یعنی بلڈ پریشر کم ہو جاتا ہے۔
انسانی جسم روزےکے شروع ہونے سے 8گھنٹے بعد تک معمول کی حالت میں رہتا ہے، یہ وہ وقت ہے جب معدے میں پڑی خوراک مکمل طور پر ہضم ہو جاتی ہے،اس کے بعد جسم جگر اور پٹھوں میں ذخیرہ شدہ گلوکوز کے ذرائع استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، جب یہ ذخیرہ بھی ختم ہو جائے تو پھر جسم چربی کو پگھلا کر اسے توانائی کے لیے استعمال کرتا ہے۔
کاربوہائیڈریٹ روٹی، چاول، آلو اور سبزیوں میں پایا جاتا ہے، انسانی جسم لگ بھگ 60 فیصد توانائی کاربوہائیڈریٹ سے حاصل کرتا ہے، انسانی دماغ اور عضلات کے لیے یہ نہایت اہم توانائی کا ذریعہ ہے، کاربوہائیڈریٹ میں نائٹروجن نہیں ہوتی، انسانی جسم میں ضرورت سے زیادہ کاربوہائیڈریٹ کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر ہے، تھوڑا بہت جو ذخیرہ ہوتا ہے وہ گلائیکوجن کی شکل میں جگر اور عضلات میں ہوتا ہے۔
روزے کی حالت میں اعصاب جمع شدہ ہارمون گلائیکوجن کو آزاد کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے جسمانی کمزوری کا احساس اجاگر ہو جاتا ہے، زہریلے مادوں کی صفائی کے پہلے مرحلے میں نتیجتاً سر درد، چکر آنا، منہ کا بد بودار ہونا اور زبان پر مواد کا جمع ہونا جیسی علامات نمودار ہوتی ہیں۔
تیسرے سے ساتویں روزے تک جسم میں موجود چربی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے اور پہلے مرحلے میں گلوکوز میں تبدیل ہو جاتی ہے، بعض لوگوں کی جلد ملائم اور چکنی ہو جاتی ہے، جسم بھوک کا عادی ہونا شروع ہوتا ہے اور اس طرح سال بھر مصروف رہنے والا نظام ہاضمہ رخصت مناتا ہے جس کی اسے اشد ضرورت تھی، خون کے سفید جرثومے اور قوت مدافعت میں اضافہ شروع ہو جاتا ہے، ہو سکتا ہے روزے دار کے پھیپڑوں میں معمولی تکلیف ہو اس لیے کہ زہریلے مادوں کی صفائی کا عمل شروع ہو چکا ہے، انتڑیوں اور کولون کی مرمت کا کام شروع ہو جاتا ہے، انتڑیوں کی دیواروں پر جمع مواد ڈھیلا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
جسم کے روزے کا عادی ہو نے کے نتیجے میں چربی پگھل کر گلوکوز میں تبدیل ہونے لگتی ہے،اس لیے ضروری ہے کہ افطار تا سحری زیادہ سے زیادہ پانی پیا جائے، سخت گرم موسم ہونے کی وجہ سے حالتِ روزہ میں پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی یعنی ڈی ہائیڈریشن ہو نے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔جیسے جیسے روزے گزرتے جاتے ھیں،جسم پوری طرح بھوک اور پیاس کو برداشت کرنے کا عادی ہوجاتا ہے، اور آپ اپنے آپ کو چست، چاک و چو بند محسوس کرتے ہیں، ان دنوں آپ کی زبان بالکل صاف اور سرخی مائل ہو جاتی ہے، سانس میں بھی تازگی آجاتی ہے، جسم کے سارے زہریلے مادوں کا خاتمہ ہو چکا ہے، نظام ہاضمہ کی مرمت ہو چکی ہے، جسم سے فالتو چربی اور فاسد مادوں کا اخراج ہو چکا ہے، بدن اپنی پوری طاقت کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرنا شروع کر دیتا ہے، بیس روزوں کے بعد دماغ اور یاد داشت تیز ہو جاتے ہے، توجہ اور سوچ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے، بلا شک بدن اور روح تیسرے عشرے کی برکات کو بھر پور انداز سے ادا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں،یہ تو دنیا کا فائدہ رہا جو بے شک ہمارے خالق نے ہماری ہی بھلائی کے لیے ہم پر فرض کیا ہے، مگر دیکھیے اس کی رحمت کا انداز کریمانہ کہ اس کے احکام ماننے سے دنیا کے ساتھ ساتھ ہماری آخرت بھی سنوارنے کا بہترین بندوبست کر دیا گیا ہے۔
روحانی کے ساتھ ان تمام جسمانی فوائد سے استفادے کے لیے ضروری ہے کہ روزے دار سحری تا افطار کھانے پینے کے معاملات میں اعتدال کا راستہ اپنائے، تلی ہوئی چیزوں کے بجائے صحت بخش غدا بالخصوص پھل، ان کے رس، دودھ اور دہی کا زیادہ استعمال کرے، مرچ مسالے سے بھرپور مرغن غذاؤں سے مکمل یا حتیٰ الامکان پرہیز کرے اور پیٹ کوحلق تک بھرنے کی کوشش تو بالکل نہ کرے کہ اس سے انسانی جسم اور صحت پر اچھے کے بجائے برے اثرات ہی مرتب ہوسکتے ہیں۔
اللہ کریم ھم سب پر اپنا فضل فرمائے،
آمین

No comments:

Post a Comment