Breaking

Monday, 18 January 2021

11:03

10 Signs and Symptoms of Iron Deficiency

 جسم میں آئرن کی کمی ظاہر کرنے والی نشانیاں

جسم میں آئرن کی کمی اینیمیا (خون کی کمی) کا شکار بنانے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہے اور روز مرہ کی زندگی میں اس کا امکان کافی زیادہ ہوتا ہے۔

آئرن کی کمی کے دوران جسم مناسب مقدار میں ہیموگلوبن بنانے سے قاصر ہوجاتا ہے۔

ہیموگلوبن خون کے سرخ خلیات کا وہ پروٹین ہے جو آکسیجن جسم کے دیگر حصوں میں پہنچاتا ہے اور اس کی عدم موجودگی سے مسلز اور ٹشوز اپنے افعال سرانجام نہیں دے پاتے۔

تحریر جاری ہے‎

یہاں آپ جسم میں آئرن کی کمی کی علامات جان سکیں گے، جو زیادہ سنگین عارضے سے بچانے میں مدد گار ثابت ہوں گی۔

غیرمعمولی تھکاوٹ

جسمانی تھکاوٹ آئرن کی کمی کی سب سے عام علامت ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آئرن کی کمی سے ہیموگلوبن بننے کا عمل متاثر ہوتا ہے جو آکسیجن پھیپھڑوں سے جسم کے دیگر حصوں تک پہنچاتا ہے۔ جب اس پروٹین کی کمی ہوتی ہے تو مسلز اور ٹشوز کم آکسیجن کی وجہ سے تھکاوٹ کے شکار ہوجاتے ہیں، تاہم روزمرہ کے کاموں کے دوران بھی تھکاوٹ ہوتی ہے تو اکثر لوگ آئرن کی کمی پکڑنے میں ناکام رہتے ہیں، تاہم ایسے افراد کو کمزوری کے ساتھ جسمانی توانائی میں کمی، توجہ مرکوز کرنے میں مشکل اور کام کرنے میں مشکل کا سامنا ہوتا ہے۔

جلد زرد ہوجانا

خون کے سرخ خلیات میں موجود ہیموگلوبن جلد کو صحت مند سرخی مائل رنگت فراہم کرتا ہے، آئرن کی کمی کے نتیجے میں ہیموگلوبن کی مقدار کم ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں جلد زرد ہوجاتی ہے۔

سانس لینے میں مشکل یا سینے میں درد

سانس لینے میں مشکل یا سینے میں درد، خصوصاً جسمانی سرگرمیوں کے دوران بھی آئرن کی کمی کی ایک اور علامت ہے۔ اس کی وجہ بھی ہیموگلوبن کی مقدار میں خون کے سرخ خلیات کی کمی ہونا ہے، جب جسم کو آکسیجن کی کمی کا سامنا ہوتا ہے تو وہ اس کی تلافی کی کوشش کرتا ہے تاکہ اعضاء اپنا کام کرسکیں، جس سے سانس گھٹنے کا احساس ہوتا ہے۔

سر چکرانا اور سردرد

آئرن کی کمی کے نتیجے میں سردرد یا آدھے سر کا درد عام ہوجاتا ہے، جس کی وجہ دماغ تک آکسیجن مناسب مقدار میں نہ پہنچنا بنتا ہے، یہ دباﺅ سردرد یا آدھے سر کے درد کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح آئرن کی کمی کے شکار افراد کو سر ہلکا ہونے یا چکرانے کا احساس بھی ہوسکتا ہے، جس کی وجہ ہیموگلوبن کی سطح میں کمی ہوتی ہے۔

دل کی دھڑکن متاثر ہونا

دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی بھی آئرن کی کمی کی ایک اور علامت ہوسکتی ہے، ہیموگلوبن کی سطح میں کمی کے نتیجے میں دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس سے دل کی دھڑکن غیر معمولی ہوجاتی ہے یا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دل بہت تیز دھڑک رہا ہے۔ سنگین معاملات میں ہارٹ فیلیئر کا بھی خطرہ پیدا ہوتا ہے۔

بالوں اور جلد کو نقصان پہنچنا

جب جلد اور بالوں کو آئرن کی کمی کا سامنا ہو تو وہ خشک اور زیادہ نازک ہوجاتے ہیں، بلکہ گنج پن کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے یا بال تیزی سے گرنے لگتے ہیں۔ آئرن کی کمی سے پروٹین کی ایک قسم ferritin کی کمی ہوتی ہے۔ آکسیجن کی کمی کے نتیجے میں جسم جلد اور بالوں کی بجائے اہم اعضاءکو ترجیح دیتا ہے۔

منہ اور زبان کی سوجن

آئرن کی کمی کو جاننے میں زبان بھی مدد دے سکتی ہے، اگر وہ سوجن، ورم یا اس کی رنگت متاثر ہو تو یہ بھی آئرن کی کمی کی نشانی ہے۔ ہماری جسم میں ایک پروٹین myoglobin ہوتا ہے جو زبان کے مسل ٹشو میں پایا جاتا ہے، آئرن کی کمی سے اس کی سطح بھی متاثر ہوتی ہے جس سے زبان سوجن اور ورم کا شکار ہوجاتی ہے۔

ناخن بھربھرے ہوجانا

ناخن کا بھربھرا ہوجانا آئرن کی کمی کی ایک ایسی علامت ہے جو زیادہ عام نہیں بلکہ یہ اینیمیا کی سطح پر نمودار ہوتی ہے۔ اس اسٹیج پر ناخن غیرمعمولی حد تک پتلے ہوجاتے ہیں اور ان کی ساخت بھی بدل جاتی ہے۔

معدے میں درد اور پیشاب میں خون آنا

آئرن کی کمی کے نتیجے میں خون کے سرخ خلیات کے دوران خون میں ٹکڑے ہوتے ہیں اور ان سے آئرن خارج ہوکر پیشاب کے راستے نکلتا ہے۔ ایسا ہونے پر معدے میں درد بھی ہوتا ہے۔

سوئیاں چبھنے کا احساس

ایسے افراد کو ریسٹ لیس لیگ سینڈروم کا سامنا ہوتا ہے، یہ اعصابی نظام کا ایسا عارضہ ہے جس میں ایسا احساس ہوتا ہے کہ ٹانگوں میں سوئیاں چبھ رہی ہیں جبکہ لاشعوری طور پر پیروں کو حرکت دینے کی خواہش ہوتی ہے، اس سے نیند بھی متاثر ہوتی ہے۔

ہاتھوں اور پیروں میں ٹھنڈا کا احساس

موسم چاہے جیسا بھی ہو مگر ہاتھ اور پیر ٹھنڈے ہورہے ہوں تو یہ واضح طور پر انیمیا یا آئرن کی کمی کی علامت ہے۔

عجیب چیزوں کی طلب

آئرن کی کمی کی ایک عجیب ترین علامت یہ ہوتی ہے جب عجیب چیزوں کو کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے جیسے لکڑی، مٹی یا برف وغیرہ۔

جلد انفیکشن کا شکار ہونا

آئرن مضبوط مدافعتی نظام کے لیے ضروری ہے، تو اس کی کمی کے نتیجے میں انفیکشن میں مبتلا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خون کے سرخ خلیات انفیکشن سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ خون کے سفید خلیات مدافعتی نظام کو مضبوط کرتے ہیں، جب آئرن کی کمی ہوتی ہے تو خون کے سفید خلیات مناسب مقدار میں بن نہیں پاتے اور نہ ہی وہ پہلے جیسے مضبوط ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں انفیکشن کا شکار ہونا آسان ہوجاتا ہے۔

Wednesday, 13 January 2021

15:56

ایلوویرا سے رنگت گوری کریں

 ایلوویرا سے رنگت گوری کریں

ایلوویرا جیل دو چمچ

کھوپرے کا تیل ایک چمچ

ابلا ہوا دودھ 5 سے 6 چمچ ٹھنڈا کر کے ملائیں سب کو اچھی طرح مکس کریں اور تھوڑی دیر رکھ دیں جب یہ سخت ہو جائے اسے کیسی بھی شیشی میں محفوظ کر لیں۔

استعمال کرنے کا طریقہ

پہلے چہرے کو اچھے طریقے سے دھولیں اور چہرے کو خشک کرکے اس کو لگا دیں اور پھر اسے رات بھر چھوڑ دیں اور صبح اُٹھ کر چہرا ٹھنڈے پانی سے دھو لیں یہ طریقہ روز کریں آپ کو ایک دن میں فرق دکھ جائے اور اسے آپ گردن اور اور ہاتھوں پر بھی لگا سکتے ہیں۔

Tuesday, 5 January 2021

13:08

2021کا آغاز ہوگیا ہے اور اب وقت ہے کہ آپ ماضی کو دیکھتے ہوئے آنے والے سال کے لیے اپنے مقاصد کا تعین کریں


تاہم تمباکو نوشی ترک کرنے یا میٹھا کم کھانے کا فیصلہ کرنے سے پہلے آپ اپنی ذہنی صحت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیوں نہیں کرتے؟

رواں برس چند سادہ چیزوں کے ذریعے آپ اپنی ذہنی صحت کو آسانی سے بہتر بناسکتے ہیں۔

ذہن کو متحرک کریں

تحقیقی رپورٹس میں دریافت کیا گیا ہے کہ دماغی سرگرمیاں خلیات کے درمیان نئے کنکشنز کو متحرک کرتی ہیں اور اس سے نئے دماغی خلیات کی تشکیل میں بھی مدد مل سکتی ہے، جس سے مستقبل میں خلیات کے مرنے سے ہونے والے نقصان کو ریورس کیا جاسکتا ہے۔

تحریر جاری ہے

ذہن کو سرگرم کرنے والی کوئی بھی سرگرمی دماغ کے لیے مفید ہے، جیسے مطالعہ، روزمرہ کے گھریلو کام، ورڈ پزل یا پہلیاں حل کرنا، جس میں ذہن کو صرف کرنا پڑے، یہاں تک کہ ڈرائنگ کرنے سے بھی ذہن کو متحرک کیا جاسکتا ہے۔

جسمانی ورزش

تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ مسلز کو استعمال کرنے سے بھی ذہن کو مدد ملتی ہے۔

ورزش کو معمول بنانے سے دماغ کے مختلف حصوں کے لیے آکسیجن سے بھرپور خون کی فراہمی بڑھتی ہے جو سوچنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

ورزش کے نئے خلیات کی نشوونما بھی تیز ہوتی ہے جبکہ دماغی خلیات کے درمیان کنکشنز بڑھتے ہیں، جس سے دماغ زیادہ بہتر طریقے سے کام کرپاتا ہے۔

ورزش کرنے سے بلڈ پریشر کم ہوتا ہے، کولیسٹرول کی سطح بہتر، بلڈ شوگر کو متوازن رکھنے اور ذہنی تناؤ بھی کم ہوتا ہے، جس کا فائدہ دل کے ساتھ دماغ کو بھی ہوتا ہے۔

اچھی غذا

اچھی غذا جسم کے ساتھ ذہن کے لیے بھی مفید ہوتی ہے، مثال کے طور پر زیادہ پھلوں، سبزیوں، گریوں، مچھلی اور زیتون کے تیل کا استعمال کرنے والے افراد کے دماغی افعال میں تنزلی اور ڈیمینشیا کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر مستحکم رکھیں

درمیانی عمر میں ہائی بلڈ پریشر بڑھاپے میں دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھاتا ہے۔

طرز زندگی میں چند عام عادات سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ نمایاں حد تک کم کیا جاسکتا ہے، جیسے ورزش کو معمول بنانا، تناؤ سے بچنا اور درست غذا، بلڈ پریشر کا خطرہ کم کرنے والے عناصر ہیں۔

بلڈ شوگر کی سطح میں کمی

ذیابیطس ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھانے والے عناصر میں شامل ہے، تو ورزش کو معمول بنانے، درست غذا اور جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھ کر اس سے بچنا ممکن ہے۔

اگر بلڈ شوگر کی سطح زیادہ رہتی ہے تو ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات کے ذریعے اسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

کولیسٹرول کی سطح بہتر بنائیں

نقصان دہ ایچ ڈی ایل کولیسٹرول سے بھی ڈیمینشیا کا خطرہ بڑھتا ہے، جس کو کنٹرول میں رکھنے لیے اچھی غذا، ورزش، جسمانی وزن کو کنٹرول میں رکھنا اور تمباکو نوشی سے گریز بہترین طریقہ کار ہیں۔

تمباکو نوشی سے بچیں

تمباکو نوشی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں اور دماغ پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرتی ہے۔

تو دماغ کو ہمیشہ صحت مند رکھنے کے لیے تمباکو سے دور رہنا عادت بنالیں۔

جذبات کا خیال رکھیں

ذہنی طور پر بے چین، مایوس اور خوفزدہ افراد کی ذہنی صلاحیتیں بری طرح متاثر ہوتی ہیں۔

تو اچھی نیند اور تناؤ سے بچنا اچھی ذہنی صحت کے حصول کے لیے اہم ترین ہیں۔

سماجی میل جول

لوگوں سے مضبوط تعلق ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے جبکہ ہائی بلڈ پریشر سے بھی تحفظ ملتا ہے۔

اسپرین سے مدد لیں

کچھ مشاہداتی تحقیقی رپورٹس سے عندیہ ملتا ہے کہ کم مقدار میں اسپرین کا استعمال ڈیمینشیا کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم استعمال سے قبل ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔

سر کو چوٹوں سے بچائیں

معتدل سے سنگین سر کی انجریز ے دماغی افعال میں تنزلی کا خطرہ بڑھتا ہے۔

 


Sunday, 22 November 2020

14:51

وہم کی اقسام اور ان سے بچاؤ

 


وہم کی اقسام اور ان سے بچاؤ

وہم کی بیماری میں مبتلا شخص میں نامعقول ،بے ہودہ اور تکلیف دہ خیالات وتصورات فرد کے ذہن سے خارج نہیں ہوتے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ وہم کی یہ صورتیں ہوں تو ان سے بچا بھی جا سکتا ہے۔

75 فیصد مریض شکوک وشبہات کا شکار ہوتے ہیں۔مریض کو شک ہوتا ہے کہ شاید اس نے کام اچھی  طرح مکمل نہیں کیا۔ایک طالب علم جب بھی دروازہ بند کر کے لوٹتا تو شک میں پڑ جاتا کہ آیا اس نے دروازہ بند کیا ہے۔

34 فیصد مریضوں کےذہنوں میں خیالات کا نہ ختم ہونے

والا سلسلہ ہوتا ہے۔ یہ خیالات عموما مستقبل کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ایک حاملہ عورت کو خیالات آتے کہ اگر یہ بچہ بیٹا ہوا تو وہ اعلی تعلیم کے لئے گھر سے چلا جائے گاپھر وہ کیا کرےگی اور بے چین ہو جاتی ۔

26فیصد مریضوں کو خوف ہوتاہے کہ ان سے کوئی ایسی حرکت سرزدنہ ہو جائےجس کی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانی پڑے۔میرے ایک مریض کو خوف تھا کہ کہیں وہ کوئی غلط بات نہ لکھ دےیا اس کے منہ سےکوئی غلط بات نکل جائے۔

17فیصد مریضوں کی خواہش ہوتی ہےکہ وہ کوئی نامعقول کام کرے۔مثلا ایک وکیل کو خیال آتا کہ وہ روشنائی کی دوات اپنے منہ میں انڈیل لے۔

 یہ بیماری  عموما جرم اور گنا کے احساس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔مسلسل ذہنی دباؤ بھی یہ بیماری پیدا کرتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ لاشعوری ذہنی کشمکش اس کا سبب بنتی ہے۔ کرداری علاج کے ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ اموزش ہے ۔یعنی ہم یہ عادت سیکھتے ہیں۔ ماضی کے ناپسندیدہ واقعات بھی یہ بیماری پیدا کرتے ہیں۔تازہ ترین ریسرچ کے مطابق سر کی چوٹ اور بعض دماغی بیماریاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں اگرچہ ایسے مریضوں کی تعداد معدود ہے۔

 علاج کے دو طریقے زیادہ معروف ہیں1 ۔دواؤں سے علاج2 ۔نفسیاتی علاج۔دواؤں سے علاج کچھ زیادہ کامیاب نہیں۔نفیساتی کےبھی کئی طریقے زیادہ کامیاب نہیں البتہ ہپناٹزم سے علاج کافی موثر ہے۔درج ذیل طریقوں سےمعمولی نوعیت مسلہ کوآپ خود ہی حل کر سکتے ہیں۔

 جب بھی یہ خیال ذہن میں آئےتو فوراکہیں سٹاپ یہ صرف ایک خیال ہے اس کو ئی حقیقت نہیں یہ مھجے ڈسٹرب نہیں کرئے گا ضرورت پڑنے پر باربار کہیں۔

جونہی  وسوسےآئیں تو اپنی سانس کو روک لیں۔

شام کے وقت ایک مقررہ گھنٹہ کےلئے کسی سکون جگہ بیٹھ جائیں جہاں کوئی آپ کو ڈسڑب نہ کرے۔ جسم کو ریلکس کریں(ڈیھلا چھوڑ دیں)اور ایک گھنٹہ کےلئے اپنے نامعقول خیالات کو کاغذ پر لکھتے جائیں۔اگر ایک ہی خیال ہوتو اسے باربار لکھتے جائیں۔ اگلے دن شام کو اسی وقت ان خیالات کو پڑھیں آخر میں ان کاغذات کو جلا دیں۔اس طرح ایک دن لکھیں اور اگلے دن پڑھ کر جلا دیں۔مشق کرتے جائیں حتی کہ خیالات ختم ہو جائیں ۔

 

Thursday, 19 November 2020

14:25

نزلہ کا علاج

 

نزلہ کا علاج

اگر نزلہ کے ساتھ درد سر ہو،تو ناک کے دنوں نتھنوں میں کئ بار نیم گرم پانی داخل کرنے سے آرام آئےگا۔

س:میں روزانہ کتنے انڈے کھاسکتاہوں؟

ج:کولیسٹرول صرف انڈے کی زردی میں ہے،سفیدی میں کولیسڑول نہیں ہوتی،اگر آپ کی کولیسٹرول درست ہے توگاہے گاہے پورا انڈہ کھا سکتے ہیں۔اگر زیادہ ہے تو انڈے کی سفیدیاں کھائیں۔

س:جھینگوں وغیرہ کے متعلق کیا خیال ہے

ج:جھینگوں میں کولیسٹرول زیادہ ہے،اس ضمن میں احتیاط لازم ہے۔

س:کیامیں روزانہ حیاتین (ای) کھاوں؟

ج:جی نہیں!اسکی بجائے تازہ پھل ،سبزی جات،کام اناج،خشک میوےاور روغن کنولا استعمال کریں۔

س:میں روزانہ کس قدر کیفین استعمال کر سکتاہوں؟

ج:کیفین درج ذیل اشاء(چائے،کافی،کولا مشروب،چاکلیٹ)مین پائی جاتی ہیں۔یہ اثر میں محرک ہے،دل کی رفتار میں اضافہ کرتی ہے۔ بے نظمی قلب کا سبب ہے،جسم میں کم آبی کرتی ہے۔

س:کیا میں نمک کی جگہ اسکا بدل استعمال کیا جا سکتا ہے؟

ج:نمک میں پوٹاشم زیادہ ہے جو بعض مریضوں کےلئے نامناسب ہے، نمک کے بدل کے طور پر مسالے استعمال کریں تاکہ خوراک مزیدار ہو جائے۔

س:روزانہ کس قدر بھوسی شامل خوراک کی جائے؟

     ج:روزانہ تیس گرام بھوسی ہو،جس کے لئے پھل ،بےچھنے آٹے کی روٹی ،آلو چھلکے کے ساتھ،سبزی جات،سلاد چھلکےدار دالیں ،پھلیاں استعمال کریں۔


Wednesday, 18 November 2020

13:11

لونگ کے فوائد اور استعمال

 


لونگ کے فوائد اور استعمال

لونگ میں بہت سی طبی خوبیاں ہیں۔یہ محرک ہوتاہے۔تشنج اور اینٹھن کے دوروں کو کم کرتا

ہےاور معدے سےریاح کوخارج کرنےمیں مدد

دیتاہے۔ایورویدک طریق علاج کرنے میں لونگ

کو دواکے طور پرکئ صورتوں استعمال کیاجاتا

ہے جن میں جوشاندہ اور سفوف دونوں شامل ہیں

لونگ میں ایسے اجزاءپائے جاتےہیں جوخون کی

گردش کو مستحکم کرتے ہیں اور جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھتے ہیں لونگ کا تیل بیرونی مالش کے ذریعے جلد کو نئ زندگی دیتا ہے۔اس کی مالش سے حدت اور سرخی پیدا ہوتی ہے۔ یہ مقوی معدہ،دافع تشنج،محرک جگراورگردہ ہے

قبض  کشا اور جلاب آورادویات میں اسے ملاکر

استعمال کرنے سے دیگر جلاب آورادویات کی طرح پیٹ درد نہیں ہوتا ۔لونگ سے نکلنے والا تیل بھی لونگ جیسے اوصاف رکھتا ہے۔تین سے پانچ بوند تک کھلانے پیٹ درد،اپھارہ،بدہضمی اورقےوغیرہ کو دور کرتا ہے۔

نظام ہضم کی خرابیاں

لونگ اینزائمز کا بہاو تیزکرتا ہے۔چنانچہ نظام ہضم بہتر ہوجاتا ہے۔اسےمعدے کی متعدد تکلیف اوربدہضمی میں بے تکلفی سے استعمال کیا جاتا ہے۔خشک لونگ کا سفوف شہد کے ساتھ ملا کر چاٹنے سے قے اور متلی رک جاتی ہے۔لونگ کابےحس کرنے کا عمل غذا کی نالی اور معدے کو سن کر دیتا ہے۔چنانچہ قے رک جاتی ہے۔

ہیضہ

لونگ کا استعمال ہیضہ کےتدارک میں بہت کامیاب ہے۔چارگرام لونگ اگرتین لیڑ پانی میں اس وقت تک ابالے جائیں کہ آدھا پانی اڑ جائے تو بقیہ پانی

کو گھونٹ پیا جائے تو ہیضہ کی شدید علامتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

کھانسی

لونگ کا ایک دانہ خوردنی نمک (چٹکی بھر) کے ساتھ چبایا جائے تو بلغم کے اخراج میں آسانی ہو جاتی ہے۔ گلے کی خراش کم ہوجاتی ہےاور کھانسی رک جاتی ہے۔حلق کی سوزش بھی اس سے ختم ہو جاتی ہے۔حلق کی سوزش اور بلغم کے اجتماع سے پیدا ہونے والی کھانسی کے علاج کےلئے جلاہوا لونگ چبانا بھی اکسیر ہے۔

لونگ کے تیل کےتین سے پانچ قطرےشہداورلہسن

کی ایک تری ساتھ کھاناانیٹھن والی کھانسی کی اذیت سےنجات دلاتاہے۔یہ کھانسی تپ دق ،دمہ اور پرونکائٹس میں ہوتی۔یہ دوا روزانہ ایک بار رات کو بستر پہ جانے سے پہلے استعمال کرنا چائے۔

دمہ

لونگ دمہ کا بھی موثرعلاج ہے چھ عدد لونگ 30 ملی لٹر پا نی میں ڈال کر ابا لنے سے جو شاندہ تیار ہو جا ئے گا ۔ اس میں ایک چمچہ جوشاندہ روزانہ تین بار پینے سے بلغم کا اخراج تیز ہو جاتاہے اور دمہ سے افاقہ ہوتاہے۔

دانتوں کی بیماریاں

دانت میں درد میں لونگ کا استعمال درد کافور کر دیتاہے ۔اس کے جراثیم کش اجزاء دانتوں کی انفکشن بھی ختم کر دیتے ہیں۔متاثرہ دانت کے خلا میں لونگ کا تیل لگانے سے بھی درد ختم ہو جاتاہے۔ لونگ چوسنے سے بھی گلےکے امراض میں افاقہ ہوتاہے

کان کا درد

ایک لونگ کا دانہ تلوں کے تیل میں(ایک چائے کا چمچہ)گرم کرکے تین سے پانچ قطرے کان میں ڈالنے سے کان کا درد ختم ہو جاتاہے۔

پٹھے چڑھنا

متاثرہ حصہ پر لونگ کے تیل کاپلٹس استعمال کرنے سے چڑھے ہوئےپٹھے ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔

سردرد

نمک ،دودھ اور پسے ہوئےلونگ کا لیپ پیشانی پر لگانے سے سردرد کا خاتمہ ایک پرانا ایک پرانا گھریلو ٹوٹکا ہے۔نمک رطوبت کشید کر کے تناو کم کرتا ہے۔

گوھانجنی(پیوٹے کی غدود کی سوزش)

آنکھ کےپپوٹے پر نکلنے والے دانے (گوھانجنی)

کا بہترین علاج لونگ ہے۔لونگ کا ڈنٹھل پانی میں گھس کر گوھانجنی پر لگانے سے آرام ملتا ہے۔

دیگر استعمال

لونگ کا استعمال کھانوں اور پکوانوں میں بہت عام ہے۔اسے پانی سپاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔لونگ کا تیل خوشبو،نہانے کے نمک،عام ادویات اور دانتوں کی ادویات میں شامل کیا جاتا ہے۔لونگ کے تیل کوتلوں کےتیل میں ملا کر ریح کی دردں والی جگہ پر ملنے سے فائدہ ہوتاہے۔بخارکےبعد لونگ چرائناملا کر مریض کو کھلانے سے بھوک جلدبڑھ جاتی ہے۔اور مریض کی کمزوری جلد رفع ہو جاتی ہے۔لونگ مقوی باہ ہے۔اعصاب کوبھی طاقت دیتاہے۔

 

Tuesday, 17 November 2020

08:18

چائے بہترین معالج ۔۔۔چائنیز کا موقف


 چائے بہترین معالج  ۔۔۔چائنیز کا موقف

دینا بھر میں چائے کا استعمال بھر پور انداز میں کیا جاتا ہے۔چائے کی مقبولیت میں ذائقے اور رنگت کے باعث اضافہ ہو تا رہتاہے ۔بعض لوگ صرف چائے کا قہوہ استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو کچھ لوگ  اس میں لیموں ،دودھ اور دیگر غذائی اشیاءشامل کرتے ہیں۔چائے پینے کا رواج اتنا بڑھ چکا ہےکہ آج بچے بھی اس کے شوقین ہو گے ہیں اور ناشتے کے  علاوہ

دوپہرکے کھانے کے بعد اور شام کو بھی چائے پینے کی خواہش ظاہرکی جاتی ہے ۔ چائےبنانےاور اس کے تیاری کے عناصر

ہر ملک ہر قبلیے میں مختلف ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے عادی افراد چائے پینے کے بھی شوقین ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے

مطابق ایسے افراد دن میں تقریباً بارہ کپ یااس سے زائد مقدار میں چائے پیتے ہیں۔

نئی تحقیق کے مطابق چائےمیں تیں سوسے زائد کیمیکلز  موجود ہوتے ہیں جن میں کیفیں،وٹامن،منرلز وغیرہ جیسے عناصر موجود 

ہوتے ہیں۔یہ کیمیکلز اور عناصرانسان کے اعصابی اور کارڈیوویسکولرسسٹم پر بطور  انٹی آکسیڈنٹ اثر انداز ہوتے ہیں۔

 چین میں چائے کو بطور معالج استعمال کیا جاتاہے اور مختلف جسمانی کمزوریوں  کی صورت میں مختلف اقسام کے چائے

پینے کی تجویز دی جاتی ہے۔چائنا میں استعمال کی جانےوالی مختلف اقسام کی چائے اور ان کے مثبت  اثرات کا جائزہ کچھ یوں

ہے۔

شوگر ٹی

یہ چائے چینی اور سبزچائے سے تیار کی جاتی ہے۔اس چائےکے بارے میں خیال کیاجاتاہےکہ یہ معدے کی مطابقت پیدا

کرنے،ماہواری کی بے قاعدگی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

کنول کی چائے

کنول لوٹس کے خشک پتوں اور بیجوں سے تیار کی جانے والی یہ چائےگردوں اور تلی کوتوانا بنانے میں معاون رہتی ہے۔

علاوہ ازیں  پیاس کی شدت میں کمی،کیل مہاسوں کی افزائش کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس چائےکا استعمال وزن میں

کمی لانے کا سبب بھی بنتا ہے۔

ادرک کی چائے

عموماًیہ چائے کھانے کے بعد پیش کی جاتی ہےاس چائے کا استعمال پھیپڑوں کو گرمائش فراہم کرتاہے اور کھانسی کی شدت

میں کمی لاتاہے بخار،فلومیں افراد کیلے بے حد مفید ہے۔

شہد کی چائے

شہد سے تیار کی جانے والی یہ چائے پیاس کی  شدت میں کمی لاتی ہے۔یہ قبض،گلےکی خرابی یا خراش،ہضم کی بےقاعدگیوں سے

محفوظ رکھتی ہے ۔خون میں اضافے کاسبب بھی بنتی ہے۔

 کارن فلیک چائے

 یہ چائے تازہ کارن  فلیک اور سبز چائےکے ملاپ سے تیار کی جاتی ہے۔اسکا استعمال تلی اور گردوں کی کارکردگی بڑھاتا اور

جسم کامیٹابولزم سسٹم بناتا ہے۔

تازہ کشمش کی چائے

تازہ کشمش ایک سو پچاس گرام کو  تین سو بیس ایم ایل  پانی میں تین منٹ تک پکانے کے بعد اس میں سبز چائے،شہد شامل کر

کے تیار کی جانے والی یہ چائے گرمی کی شدت میں کمی لاتی ہےاور جگر پرمثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔اس چائے کا استعمال

سٹریس اور ٹینشن دور کرتاہے۔

 سرکے کی چائے

تازہ سرکے سےتیار کی جانیوالی یہ چائےسینے کی جکڑن دور کرنے ،ڈپریشن سے نجات دلانے اور چڑچڑاپن دور کرنےکا بہترین

ذریعہ ہے۔

 گل دانودی کی چائے

خشک سفید گل داودی اور سبز چائے کے ملاپ سے تیار کی جانیوالی یہ چائےجگر کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔آنکھوں

کی بنیائی کےلیے مفید ہوتی ہے۔ایسے افراد جوبلڈپریشر میں مبتلا ہوں سردرد کی شکایت رہتی ہوان کےلئے موثر ہے۔

کھجوروں سے بنی چائے

سرخ کھجوروں کے مرکب سے تیار ہونیوالی یہ چائے تلی کی خرابی کی صورت میں بہترین  ٹانک ہوتی ہے  اور ایسے بچے جو سوتے

میں بسترگیلا کرنے کی عادت میں مبتلا ہوں انہیں اس چائے کا استعمال کرانا مفید ہوگا۔

اگرچہ چائے کے پتوں میں شفائی اثرات پائے جاتے ہیں لیکن نباتاتی اشیاء کے ساتھ چائےکے اثرات زیادہ پر اثراور مفید 

ثابت ہوتے ہیں۔چونکہ قدرتی جڑی بوٹیوں میں پائے جانیوالے قدرتی  غذائی عناصرکی اہمیت واضح ہے اس لیے کسی بھی چائے

میں ان کا معمولی استعمال بھی مفید رہے گا۔