دماغی کمزوری سے نجات کیسے حاصل کریں؟
ایک بابا کی کہاوت ہے کہ "ایک صحت مند جسم میں صحت مند دماغ ہوتا ہے۔"
طبی ماہرین دماغ کو انسانی جسم کا ڈرائیور کہتے ہیں کیونکہ یہ جسم کے تمام افعال اور افعال کو کنٹرول کرتا ہے اور انسانی جسم کی تمام صلاحیتیں بھی دماغ کے کام پر منحصر ہوتی ہیں۔
پٹھوں اور اعصاب کے ذریعے جسم کے تمام نظام دماغ کے کنٹرول میں کام انجام دیتے ہیں۔ دماغ ایک خودکار مشین ہے جو اتنی ہی تیز ہوتی ہے جتنی اس کا استعمال ہوتا ہے ، لیکن بعض اوقات بعض داخلی یا خارجی عوامل کی وجہ سے دماغ کی کمزوری ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے۔
دماغ میں کام کرنے والے افراد ، وہ لوگ جو درس و تدریس میں شامل ہیں ، جو لوگ وکالت اور اعصابی تناؤ کے ماحول میں رہتے ہیں وہ اکثر ذہنی کمزوری کا سامنا کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ، سودے بازی کا غلبہ دماغی جھلیوں اور خلیوں میں سوھاپن کو بڑھاتا ہے۔ دماغی استعداد کی کمزوری خون کی فراہمی کی کمی کی وجہ سے ہونے لگتی ہے۔ اسی طرح ، دائمی نزلہ زدہ لوگوں کو بھی ذہنی کمزوری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جدید طبی تحقیق کے مطابق ، دماغ کا کمزور تحول دماغ کے میسنجر انزائمز کے کام کو متاثر کرسکتا ہے ، جس سے دماغی کمزوری ہوتی ہے۔ انسانی جسم میں وٹامن بی 12 ، زنک ، کیلشیم ، اسٹیل ، وغیرہ۔ آکسیجن اور فولک ایسڈ کی سطح میں کمی انسانی دماغ کی کمزوری کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
اسی طرح ، نشے آور دواؤں کا بار بار اور لاپرواہ استعمال دماغی شریانوں ، بلڈ پریشر ، ذیابیطس ، دائمی قبض ، اچانک حادثات ، صدمے ، طویل عرصے تک سرخ خون کے خلیوں کی باقاعدہ فراہمی میں مداخلت کرسکتا ہے۔ نیند کی کمی ، اہداف میں مستقل ناکامی اور ازدواجی عوارض میں گھرے رہنے ، مستقل اور مستقل سوچ اور خیالات میں گھرا رہنے کے اعصابی نظام کو پریشان کرنے اور ذہنی کمزوری کا ایک قوی امکان ہے۔
ذہنی بیماری کا گھریلو علاج
مغز اخروٹ کی ساخت کا جائزہ لیا جائے تو وہ ہوبہو انسانی دماغ سے مشابہہ دکھائی دیتی ہے۔طبی ماہرین مغز اخروٹ کو دماغی کمزوری دور کرنے کے لیے بے حد مفید بتاتے ہیں۔اسی طرح وٹامن اے،ای ،زنک،کیلشیم،فولاد،تھایا مین،آکسیجن اور فولک ایسڈ وغیرہ کے ماغذغذائی اجزاء کا روز مرہ لازمی استعمال کرنا دماغ کے لیے بہترین ٹانک کا کام کرتا ہے۔ دماغی کمزوری سے بچنے اور یاد داشت بڑھانے کی چند مفید ِآسان اور گھریلو طبی تراکیب درج ذیل ہی:جب متواتر ذہنی دباؤ میں رہنے کے سبب دماغی کمزوری کا سامنا ہو تو زرشک شیریں ایک چمچی( چائے کا چھوٹا چمچ ) عرق گلاب میں بگھو کر صبح نہار منہ زرشک شیریںکھا کر عرق گلاب پی لیا جائے۔اگر نظر کی کمی کے باعث دماغی کمزوری لاحق ہو تو مغز بادیاں،مغز کشنیز،مغز بادام اور مصری ہم وزن ملا کر سفوف بنالیں۔رات کو سوتے وقت ایک چمچ گائے کے نیم گرم دودھ کے ساتھ کھا کر بغیرکچھ مزید کھائے پیئے سو جائیں۔
دماغی کمزوری دور ہو نے کے ساتھ ساتھ بینائی بھی تیز ہو جائے گی۔ دماغی کمزوری کی وجہ سے سر کے بال بھی سفید ہونے لگیں تو مربہ ہرڈ ایک پاؤ،مرچ سیاہ 10 گرام اور الائچی سبز 5 گرام باہم مرکب بنا کر ایک چمچ نہار منہ متواتر کھانے سے دماغی کمزوری سے نجات بھی ملے گی اوربال سفید ہونا بھی رک جائیں گے۔
عام دماغی کمزوری دور کرنے کے لیے بہترین چند گھریلو طبی تراکیب درج کی جاتی ہیں۔
برہمی بوٹی 1گرام،مغز بادام 7عدد فلفل سیاہ 3عددخشخاس 1گرام ر ات کو پانی میں بھگو کر صبح نہار منہ بطریق سردائی گھوٹ کر تازہ مکھن10گرام شامل کرکے استعمال کریں ۔ مغز بادام50 گرام، مغزسونف 50گرام، مغز کشنیز 50 گرام ،اسطوخودوس50 گرام، فلفل سیاہ 10 گرام اور مصری 100 گرام سفوف بنا کر رات کو سوتے وقت ایک چمچ چائے والا کھا کر دودھ کاایک گلاس پی لیا جائے۔ چنے سیاہ بھنے ہوئے (چھلکا اترا ہو) 100 گرام،مغز بادام شیریں 100گرام ،دیسی شکر 200گرام اور دیسی گھی ایک پاؤ باہم مرکب بنا کر صبح نہار منہ ایک بڑا چمچ کھا کر نیم گرم دودھ پی لیں۔ مربہ ہرڈ دو عدد رات کوسوتے وقت دھو کرکھا کر دودھ پینا بھی بہترین فوائد کا حامل ہے۔مربہ آملہ دو عدد نہار منہ کھانا یا مربہ آملہ،مربہ ہرڈ،مربہ سیب اور مربہ گاجر باہم ملا کر اس میں ورقِ نقرہ کا اضافہ کر کے نہار منہ 50 گرام کھا کر دودھ پینا کمال تاثیر رکھتا ہے۔
گاجر کا حلوہ ،جوس اور تازہ کچی گاجر کھانا بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔ دار چینی اور ادرک کا قہوہ پینا یا دار چینی کو پیس کر اس میں شہد ملا کر نصف چمچ چائے والا رات کو سوتے وقت کھا لیا جائے۔دیسی انڈے کا استعمال کرنا بھی دماغ کے لیے بہترین غذا ہے۔دودھ اور کچا انڈہ پھینٹ کر پینا دماغی اور جسمانی کمزوری دور کرنے کا شاندار قدرتی ذریعہ ہے۔اسی طرح نیم برشت انڈ ے کی زردی میں سونٹھ نصف چمچ ملا کر کھانا دماغ کی مضبوطی کے لیے بے مثال ہے۔ عود اور جدوار کو شہد میں ملا کر چاٹنا بھی بہترین ہے۔
دیسی گھی کا استعمال بھی دماغی صلاحیتوں میں اضافے کا ذریعہ ہے۔دیسی گھی کے حوالے سے ایک مشہور ضر ب المثل بھی ہے کہ’’ددھ ودھا وے بدھ تے گھی ودھاوے کھوپڑی‘‘ ۔سر میں لبوب سبعہ ،روغن بادام اور پرانے روغن زیتون کا مساج کرنے سے بھی یاد داشت اور حافظہ زیادہ ہوتا ہے۔
پاؤں کے تلووں پر روغن مالکنگنی سے مالش کرنے سے بھی دماغ کو طاقت ملتی ہے۔اسی طرح دیسی کدو کے گودے سے پاؤں پر مساج کرنے سے بھی دماغ کو تراوت میسر آتی ہے۔ کیلا وکھجور ملک شیک کا استعمال کرنا بھی لاجواب فوائد کے حصول کا سبب بنتا ہے۔رات کو چند بادام کی گریاں دودھ میں بھگو کر صبح نہار منہ گرائنڈ کر کے پینا بھی بہترین غذائیت کا سبب بنتا ہے۔خشک میوہ جات، سیب، کیلا، آم، کھجور، انگور، مچھلی، بٹیر اور دیسی مرغ کا متواتر گوشت کھانا دماغی کمزوری سے نجات دلاتاہے۔
کستوری،عنبر،صندل،گلاب اور زعفران کی خوشبو سونگھنا بھی دماغ کی مضبوطی کا سبب بنتی ہے۔ رات کی نیند ذہنی و جسمانی صحت مندی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔لہٰذا رات کو متواتر 6 سے 8 گھٹے سونا بھی دماغی طور پر مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔ دماغی کمزوری دور کرنے میں ورزش کا بھی بنیادی کردار مانا جاتا ہے۔
دماغ کی جانب دوران خون کو بڑھانے والی ورزشیں جن میں الٹا لٹکناسب سے بہترین اور موثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ترو تازہ آب وہوا میں تیز دوڑنا، تیراکی کرنا، طویل رکوع و سجود اور یوگا ورزشیں بھی دماغی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے بے حد فائدہ مند سمجھی جاتی ہیں۔مثبت انداز فکر،حسن سلوک اور اخلاق حسنہ اپنانے سے بھی دماغ تر وتازہ اور پرسکون رہتا ہے۔دماغی سکون اور ترو تازگی بھی دماغ کی استعداد بڑھانے میں ممدو معاون ثابت ہوتے ہیں۔
پرہیز
فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، بیکری مصنوعات، بیگن، بڑا گوشت، تیز مسالہ جات، چاول، کافی، زیادہ چائے،سگریٹ ومنشیات نوشی، چکنائیاں، مٹھائیاں،بادی و ترش اجزاء سے مکمل پرہیز کریں۔ یاد رہے کہ دھنیا خشک اورپیاز کا بکثرت کھانا اور دن کے وقت زیادہ سونا بھی دماغی کمزوری کا باعث بنتے ہیں۔لہٰذا خشک دھنیا اور کچی پیاز کے استعمال میں اعتدال لاکر بھی ہم دماغی کمزوری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
الٹا اور لیٹ کر پڑھنے،کھانے کے فوری بعد نہانے اور سونے، فضول سوچنے، بات بے بات غصہ کرنے، اداس رہنے اور بعد از عصر سونے سے اجتناب کریں۔منفی طرز عمل،بد سلوکی اور اخلاق رذیلہ سے ممکنہ طور پر دور رہا جائے۔وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہماری ان معروضات پر عمل پیرا ہونے سے خاطر خواہ حد تک دماغی کمزوری کے عارضے سے بچا جا سکتا ہے
کستوری ، عنبر ، صندل ، گلاب اور زعفران کی خوشبو سے مہکھنے سے دماغ کو بھی تقویت ملتی ہے۔ دماغی اور جسمانی صحت کے لئے رات کو نیند بہت ضروری ہے۔ لہذا ، رات کو 6 سے 8 گھنٹے کی نیند بھی ذہنی طاقت کا باعث ہوتی ہے۔ ورزش کو ذہنی کمزوری دور کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے پر غور کیا جاتا ہے۔
ورزشیں جو دماغ میں خون کے بہاؤ میں اضافہ کرتی ہیں ، جو الٹی کا بہترین اور موثر طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ تازہ ہوا میں ، تیز دوڑنا ، تیراکی ، لمبی رکوع اور سجدے اور یوگا ورزشیں بھی ذہنی صلاحیتوں کو بڑھانے کے ل. بہترین ہیں۔ یہ فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ مثبت سوچ ، اچھی آداب اور اچھے اخلاق دماغ کو بھی تروتازہ اور پرسکون رکھتے ہیں۔ ذہنی سکون اور تروتازہ دماغ کی گنجائش بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
اجتناب
فاسٹ فوڈز ، کولا ڈرنکس ، بیکری پروڈکٹس ، بینگن ، بڑے گوشت ، مسالہ دار کھانوں ، چاول ، کافی ، بہت زیادہ چائے ، سگریٹ اور دوائی ، چربی ، مٹھائیاں اور کھٹا اجزاء سے پرہیز کریں۔ یاد رکھیں کہ دھنیا اور پیاز کا بہت زیادہ کھانا اور دن میں زیادہ نیند بھی ذہنی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ لہذا ، خشک دھنیا اور کچے پیاز کے استعمال کو معتدل کرنے سے ، ہم ذہنی کمزوری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
الٹا اور لیٹ کر پڑھنے،کھانے کے فوری بعد نہانے اور سونے، فضول سوچنے، بات بے بات غصہ کرنے، اداس رہنے اور بعد از عصر سونے سے اجتناب کریں۔منفی طرز عمل،بد سلوکی اور اخلاق رذیلہ سے ممکنہ طور پر دور رہا جائے۔وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ہماری ان معروضات پر عمل پیرا ہونے سے خاطر خواہ حد تک دماغی کمزوری کے عارضے سے بچا جا سکتا ہے۔

No comments:
Post a Comment