پنتالیس سال کی عمر کے بعد ہر تین میں سے ایک شخص دل کی بیماری کا شکار ہےتاہم
خوشخبری
یہ ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے۔
آج میں آپ کو صحت سے متعلق ایسی باتیں بتاوں گا جو شاہد اس سے پہلے آپ کے علم میں نہ ہوں۔
دل کی بیماری خطرناک اور جان لیوا بھی ہو سکتی ہیں۔
پنتالیس سال کی عمر کے بعد ہر دو میں سے ایک شخص دل کی بیماری کا شکار ہے۔
اچھی خبر یہ ہےان بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے ۔
دل کی بیماریوں میں شامل ہیں
ہائی بلڈ پر یشر ۔
ہارٹ اٹیک۔
فالج ۔
شوگر
دل کی بیماریوں کی وجوہات کیا ہیں۔
تمباکو نوشی ۔
ورزش کی کمی ،وزمیں زیادتی ۔
نا مناسب غذا ۔
ذہنی دباو مایوسی۔
ہائی بلڈ پریشر اور شوگر۔
دل کی بیماریوں کے خطرات ان افراد میں زیادہ ہوتے ہیں ۔
جو تمباکو نوشی کرتے ہیں جس میں سگریٹ حقہ بیٹری تمباکو والے پان اور نسوار شامل ہیں اور ان افراد میں دل کی بیماریوں کے خطرات دو گنا ہو تے ہیں۔
جو لوگ ست ہوتے ہیں اور جسمانی مشقت سے گھبراتے ہیں اور جن کا وزن بڑھ جاتا ہے ۔
جو لوگ دیسی گھی ،مکھن ،بالائی ،چکنائی سے اشیا ء چھوٹا اور بٹرا گوشت ،گردے کپورے ،مغز اور انڈے کی زردی استعمال
کرتے ہیں ۔
جو لوگ مایوسی اور ذہنی کا شکار ہوتے ہیں ۔
جن افراد کو بلڈپریشر کا مرض ہو۔
جن افراد کے خاندان میں دل کا مرض ہو ۔
شوگر کے مریض میں بھی دل کی بیماریوں کے خطرات عام آدمیوں کے مقابلے میں دو گنا ہو تے ہیں مردوں میں چالیس
کی عمر کے بعد اور خواتین میں ماہواری بند ہو جانے کے بعد دل کی بیماریوں کے خطرات زیادہ ہو جاتے ہیں۔
دل کی بیماریوں سے بچاو ممکن ہے۔
تمباکو نوشی سے پرہیز۔
نامناسب غزا سے پرہیز ۔
باقاعدہ ورزش
مایوسی اور ذہنی پرشیانی سے بچاو۔
بلڈ پریشر باقاعدگی سے چیک کروانا۔
اگر آپ ان پانچ نکات کو ذہین نشین کر لیں اور اپنی روز مرہ زندگی میں ان پر باقاعدگی سے عمل کریں گے تو یقینا دل کی بیمار یوں سے بچے رہیں گے ۔
پینتایس سال کی عمر کے بعد مرغن غزاوں سے پرہیز کریں جسا کہ دیسی گھی اور اس سے بنی اشیاء ،مکھن،بالائی اور بالائی والے
دودھ سے بنی اشیا ء ،انڈہ ،لال گوشت ،گردے کپورے مغز جبکہ سبزیوں،پھلوں،اناج اور دالوں زیادہ سے زیادہ استمعال
کریں۔
باقاعدہ ورزش آپ کیلے مفید ہے۔روزانہ آدھ گھنٹہ واک کریں یا اگر ایسا ممکن نہیں تو گھر کے اندر چلتے پھرتے رہیں
اور چاک و چوبند رہیں۔بچوں کو بھی ورزش کی طرف ماہل کریں کیونکہ یہ صحت مند زندگی کیلے بہت ضرروی ہے ۔
مایوسی اور ذہنی پر شیانیوں سے بچیں،اپنی پرشیانیوں میں خدا کو یاد کریں اور باقاعدگی سے نماز پڑ ھیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ۳۵ سا ل کی عمر کے بعد ڈاکٹر سے اپنا بلڈپریشر ضرور چیک کرواہیں اور اگر یہ زیادہ ہے تو
ڈاکٹر کی ہدایات کے مطابق باقاعدگی سے چیک کرواہیں اور دوا استمعال کریں۔
بلڈپریشر نارمل ہونے کی صورت میں بھی سال میں ایک مرتبہ بلڈپریشر ضرور چیک کرواہیں۔
تمباکو نوشی سے پرہیز کیجَے ۔
تمباکو سے نہ صرف بے شمار بیماریوں کا شکار ہوں گے بلکہ ساتھ دوسرے افراد کی صحت بھی متاثر ہو گی ۔
تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں دل کی بیماریاں بہت عام ہوتی ہیں۔
اسے افراد میں سانس اور گلے کی بیماریاں جن میں دمہ ،دائمی کھانسی ،پھیپھٹروں کا کینسر اور بے شمار دوسری بیماریاں
لاحق ہونے کے خطرات بھی بہت زیادہ ہو تے ہیں
سگریٹ نوشی مختلف بیماریوں کے ساتھ ساتھ آپ کےلیے مالی نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔
تمباکو نوشی ہر شکل میں (سگریٹ ،حقہ ،بیٹری ،تمباکو والے پان ،نسوار )نقصان دہ ہو تی ہے۔
دل کی صحت کےلیے فاہدہ مند غذا ۔
۳۵ سال کی عمر کے بعد خوراک میں چند تبد یلیوں کی ضرروت ہوتی ہے۔
گائے اور بکر ی کا گوشت ہفتے میں دو مرتبہ سے زیادہ مت کھاہیں ۔
مرغی کا گوشت ہفتے میں چار مرتبہ سے زیادہ مت کھاہیں ۔
مچھلی کا گوشت دل کے لیے محفوظ ہے اور اس کے زیادہ استمعال کا مشورہ دیا جاتا ہے ۔
انڈے کی زردی ہفتے میں دو مرتبہ سے زیادہ مت کھاہیں تاہم سفیدی روزانہ کھا سکتے ہیں۔
کھانا پکانا کےلیے کوکنگ آہل مناسب اور بہت کم مقدار میں استمعال کریں ۔
دودھ ہمیشہ بالائی کے بغیر استمعال کریں ۔
روایتی میٹھے جیسا کہ حلوہ،میٹھائیاں اور بیکری کے سامان سے پرہیز کریں ۔
اپنی خوراک میں سبزیوں ،پھلوں، اناج، اور دالوں کا استمعال زیادہ سے زیادہ کریں۔


No comments:
Post a Comment