سیر تندرستی کی ضامن ہے۔
جو لوگ صج خیز ی کے عادی نہیں وہ سیر کو نہیں جا سکتے ۔وہ صج کے سہانے نظاروں،طلوع آفتاب کے دلکش ،دلفریب اور
پر لطف مناظر سے لطف اندوز ہونے کے مواقع کو ضائع کر دیتے ہیں۔دن بھر وہ بجھے بجھے سے نظر آتے ہیں۔طبیعت کام کی طرف بمشکل ماہل ہوتی ہے ۔جسمانی اور ذہنی طور پر وہ کمزور نطر آتے ہیں ۔یہی حال شہری لوگوں کا ہے۔وہ رات کو تاخیر سےسوتے ہیں اور دن چڑھے بیدار ہوتے ہیں لہذا صج خیزی کی مترقبہ نعمت سے محروم رہتے ہیں ۔ اگرچہ شہر میں لوگوں نے سیر و تفریح اور ورزش کیلے بہت سے پارک اور کلب وغیرہ قائم کئے ہوئے ہیں جہاں صحت و تندرستی رکھنے والے حضرات باقاعدہ لمبی لمبی سیر یں اور ورزش کرتے ہیں ۔کلبوں میں جمناسٹک کیلے مشیین آلات نصب ہو تے ہیں۔غرضیکہ
طبعت کے مطابق ہر قسم کا سامان موجود ہوتا ہے جسے استعمال کر کے صحت کے میعار کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
دیہات کے لوگ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ صبح کی سیر کے لوازمات انہیں بطور عطیہ خداوندی حاصل ہیں ۔وہ
صبح سویرے منہ اندھرے معمول کے مطابق کھتیوں کی طرف نکل جاتے ہیں ۔ایک پنتھ دوکاج کے مطابق وہ کام کے ساتھ ساتھ صاف سے بھی مستفید ہوتے ہیں ۔صبح سویرے اٹھنے کی عادت کی وجہ سے وہ صحت کی دولت سے مالا مال ہو تے ہیں۔ان کے
جسم توانا مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں۔
جسم توانا مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں۔

No comments:
Post a Comment