Breaking

Sunday, 22 November 2020

وہم کی اقسام اور ان سے بچاؤ

 


وہم کی اقسام اور ان سے بچاؤ

وہم کی بیماری میں مبتلا شخص میں نامعقول ،بے ہودہ اور تکلیف دہ خیالات وتصورات فرد کے ذہن سے خارج نہیں ہوتے۔ماہرین بتاتے ہیں کہ وہم کی یہ صورتیں ہوں تو ان سے بچا بھی جا سکتا ہے۔

75 فیصد مریض شکوک وشبہات کا شکار ہوتے ہیں۔مریض کو شک ہوتا ہے کہ شاید اس نے کام اچھی  طرح مکمل نہیں کیا۔ایک طالب علم جب بھی دروازہ بند کر کے لوٹتا تو شک میں پڑ جاتا کہ آیا اس نے دروازہ بند کیا ہے۔

34 فیصد مریضوں کےذہنوں میں خیالات کا نہ ختم ہونے

والا سلسلہ ہوتا ہے۔ یہ خیالات عموما مستقبل کے حوالے سے ہوتے ہیں۔ایک حاملہ عورت کو خیالات آتے کہ اگر یہ بچہ بیٹا ہوا تو وہ اعلی تعلیم کے لئے گھر سے چلا جائے گاپھر وہ کیا کرےگی اور بے چین ہو جاتی ۔

26فیصد مریضوں کو خوف ہوتاہے کہ ان سے کوئی ایسی حرکت سرزدنہ ہو جائےجس کی وجہ سے انہیں شرمندگی اٹھانی پڑے۔میرے ایک مریض کو خوف تھا کہ کہیں وہ کوئی غلط بات نہ لکھ دےیا اس کے منہ سےکوئی غلط بات نکل جائے۔

17فیصد مریضوں کی خواہش ہوتی ہےکہ وہ کوئی نامعقول کام کرے۔مثلا ایک وکیل کو خیال آتا کہ وہ روشنائی کی دوات اپنے منہ میں انڈیل لے۔

 یہ بیماری  عموما جرم اور گنا کے احساس کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔مسلسل ذہنی دباؤ بھی یہ بیماری پیدا کرتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ لاشعوری ذہنی کشمکش اس کا سبب بنتی ہے۔ کرداری علاج کے ماہرین کے مطابق اس کی بڑی وجہ اموزش ہے ۔یعنی ہم یہ عادت سیکھتے ہیں۔ ماضی کے ناپسندیدہ واقعات بھی یہ بیماری پیدا کرتے ہیں۔تازہ ترین ریسرچ کے مطابق سر کی چوٹ اور بعض دماغی بیماریاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں اگرچہ ایسے مریضوں کی تعداد معدود ہے۔

 علاج کے دو طریقے زیادہ معروف ہیں1 ۔دواؤں سے علاج2 ۔نفسیاتی علاج۔دواؤں سے علاج کچھ زیادہ کامیاب نہیں۔نفیساتی کےبھی کئی طریقے زیادہ کامیاب نہیں البتہ ہپناٹزم سے علاج کافی موثر ہے۔درج ذیل طریقوں سےمعمولی نوعیت مسلہ کوآپ خود ہی حل کر سکتے ہیں۔

 جب بھی یہ خیال ذہن میں آئےتو فوراکہیں سٹاپ یہ صرف ایک خیال ہے اس کو ئی حقیقت نہیں یہ مھجے ڈسٹرب نہیں کرئے گا ضرورت پڑنے پر باربار کہیں۔

جونہی  وسوسےآئیں تو اپنی سانس کو روک لیں۔

شام کے وقت ایک مقررہ گھنٹہ کےلئے کسی سکون جگہ بیٹھ جائیں جہاں کوئی آپ کو ڈسڑب نہ کرے۔ جسم کو ریلکس کریں(ڈیھلا چھوڑ دیں)اور ایک گھنٹہ کےلئے اپنے نامعقول خیالات کو کاغذ پر لکھتے جائیں۔اگر ایک ہی خیال ہوتو اسے باربار لکھتے جائیں۔ اگلے دن شام کو اسی وقت ان خیالات کو پڑھیں آخر میں ان کاغذات کو جلا دیں۔اس طرح ایک دن لکھیں اور اگلے دن پڑھ کر جلا دیں۔مشق کرتے جائیں حتی کہ خیالات ختم ہو جائیں ۔

 

No comments:

Post a Comment