چائے بہترین معالج ۔۔۔چائنیز کا موقف
دینا بھر میں چائے کا استعمال بھر پور انداز میں کیا جاتا ہے۔چائے کی مقبولیت میں ذائقے اور رنگت کے باعث اضافہ ہو تا رہتاہے ۔بعض لوگ صرف چائے کا قہوہ استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو کچھ لوگ اس میں لیموں ،دودھ اور دیگر غذائی اشیاءشامل کرتے ہیں۔چائے پینے کا رواج اتنا بڑھ چکا ہےکہ آج بچے بھی اس کے شوقین ہو گے ہیں اور ناشتے کے علاوہ
دوپہرکے کھانے کے بعد اور شام کو بھی چائے پینے کی خواہش ظاہرکی جاتی ہے ۔ چائےبنانےاور اس کے تیاری کے عناصر
ہر ملک ہر قبلیے میں مختلف ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی کے عادی افراد چائے پینے کے بھی شوقین ہوتے ہیں۔ ایک اندازے کے
مطابق ایسے افراد دن میں تقریباً بارہ کپ یااس سے زائد مقدار میں چائے پیتے ہیں۔
نئی تحقیق کے مطابق چائےمیں تیں سوسے زائد کیمیکلز موجود ہوتے ہیں جن میں کیفیں،وٹامن،منرلز وغیرہ جیسے عناصر موجود
ہوتے ہیں۔یہ کیمیکلز اور عناصرانسان کے اعصابی اور کارڈیوویسکولرسسٹم پر بطور انٹی آکسیڈنٹ اثر انداز ہوتے ہیں۔
چین میں چائے کو بطور معالج استعمال کیا جاتاہے اور مختلف جسمانی کمزوریوں کی صورت میں مختلف اقسام کے چائے
پینے کی تجویز دی جاتی ہے۔چائنا میں استعمال کی جانےوالی مختلف اقسام کی چائے اور ان کے مثبت اثرات کا جائزہ کچھ یوں
ہے۔
شوگر ٹی
یہ چائے چینی اور سبزچائے سے تیار کی جاتی ہے۔اس چائےکے بارے میں خیال کیاجاتاہےکہ یہ معدے کی مطابقت پیدا
کرنے،ماہواری کی بے قاعدگی میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
کنول کی چائے
کنول لوٹس کے خشک پتوں اور بیجوں سے تیار کی جانے والی یہ چائےگردوں اور تلی کوتوانا بنانے میں معاون رہتی ہے۔
علاوہ ازیں پیاس کی شدت میں کمی،کیل مہاسوں کی افزائش کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اس چائےکا استعمال وزن میں
کمی لانے کا سبب بھی بنتا ہے۔
ادرک کی چائے
عموماًیہ چائے کھانے کے بعد پیش کی جاتی ہےاس چائے کا استعمال پھیپڑوں کو گرمائش فراہم کرتاہے اور کھانسی کی شدت
میں کمی لاتاہے بخار،فلومیں افراد کیلے بے حد مفید ہے۔
شہد کی چائے
شہد سے تیار کی جانے والی یہ چائے پیاس کی شدت میں کمی لاتی ہے۔یہ قبض،گلےکی خرابی یا خراش،ہضم کی بےقاعدگیوں سے
محفوظ رکھتی ہے ۔خون میں اضافے کاسبب بھی بنتی ہے۔
کارن فلیک چائے
یہ چائے تازہ کارن فلیک اور سبز چائےکے ملاپ سے تیار کی جاتی ہے۔اسکا استعمال تلی اور گردوں کی کارکردگی بڑھاتا اور
جسم کامیٹابولزم سسٹم بناتا ہے۔
تازہ کشمش کی چائے
تازہ کشمش ایک سو پچاس گرام کو تین سو بیس ایم ایل پانی میں تین منٹ تک پکانے کے بعد اس میں سبز چائے،شہد شامل کر
کے تیار کی جانے والی یہ چائے گرمی کی شدت میں کمی لاتی ہےاور جگر پرمثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔اس چائے کا استعمال
سٹریس اور ٹینشن دور کرتاہے۔
سرکے کی چائے
تازہ سرکے سےتیار کی جانیوالی یہ چائےسینے کی جکڑن دور کرنے ،ڈپریشن سے نجات دلانے اور چڑچڑاپن دور کرنےکا بہترین
ذریعہ ہے۔
گل دانودی کی چائے
خشک سفید گل داودی اور سبز چائے کے ملاپ سے تیار کی جانیوالی یہ چائےجگر کی صفائی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔آنکھوں
کی بنیائی کےلیے مفید ہوتی ہے۔ایسے افراد جوبلڈپریشر میں مبتلا ہوں سردرد کی شکایت رہتی ہوان کےلئے موثر ہے۔
کھجوروں سے بنی چائے
سرخ کھجوروں کے مرکب سے تیار ہونیوالی یہ چائے تلی کی خرابی کی صورت میں بہترین ٹانک ہوتی ہے اور ایسے بچے جو سوتے
میں بسترگیلا کرنے کی عادت میں مبتلا ہوں انہیں اس چائے کا استعمال کرانا مفید ہوگا۔
اگرچہ چائے کے پتوں میں شفائی اثرات پائے جاتے ہیں لیکن نباتاتی اشیاء کے ساتھ چائےکے اثرات زیادہ پر اثراور مفید
ثابت ہوتے ہیں۔چونکہ قدرتی جڑی بوٹیوں میں پائے جانیوالے قدرتی غذائی عناصرکی اہمیت واضح ہے اس لیے کسی بھی چائے
میں ان کا معمولی استعمال بھی مفید رہے گا۔

No comments:
Post a Comment